Urdu Article On Maulana Sherani

130 Views

آخری دور کا عالم ۔۔۔۔ !

" پاک فوج کرائے کی فوج ہے اور تم لوگوں کو مار رہی ہے۔ ژوب اور لورالائی میں پاک فوج کا آپریشن امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ میری تمام علماء اور مساجد کے ملاوؤں سے اپیل ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ تم سب پشتون ہو۔ تم لوگ اکھٹے ہوکر پاک فوج کے سامنے کھڑے ہو اور اس سے سوال کرو۔ آپریشن کے دوران اپنے گھر ہرگز ہرگز خالی نہ کرنا، ڈٹ جانا، قتل ہو جانا " ۔۔۔ 
یہ مولانا شیرانی کے 20155ء میں علماء کے ایک اجتماع سے خطاب کا خلاصہ ہے۔ یہ خطاب اس نے پاک فوج کے ژوب اور لورالائی میں کیے گئے جانے آپریشن سے قبل کیا تھا۔ 
پاک فوج کو ڈنکے کی چوٹ پر " کرائے کی فوج " قرار دینے والے ان مولانا سے 20100ء میں کیپٹل ٹی وی کے " عوام " نامی پروگرام کے اینکر نے پاکستان کے خلاف جنگ اور خود کش حملوں پر رائے دینے کو کہا تو مولانا نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
 لیکن معاملہ جب امریکہ اور روس کے خلاف جنگ کا تھا تو مولانا اپنی رائے دینے میں ذرا نہیں ہچکچائے!
" روس کے خلاف جہاد ڈالر جہاد تھا " 
" ہماری نصاب میں جہادی آیات امریکہ کے کہنے پر ڈالی گئیں ہیں"
" روس کے خلاف لڑنے والے کرائے کے جنگجو تھے"
" کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں پاک فوج کو سب کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے "
یہ اقتباسات ان کے 20166ء میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے ہیں۔ مولانا نے اپنی اس پریس کانفرنس میں پاک فوج کی افغان طالبان کے حوالے سے "نرم پالیسی" کو سخت نشانہ بنایا اور ان کو دہشت گرد قرار دیا۔ اسی طرح روس کے خلاف لڑنے والوں کو بھی " کرائے کے جہادی " قرار دیا۔ 
 مولانا نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جب انہی کے جماعت کے امیر فضل الرحمن ڈیزل کے پرمٹ لے کر ان ہی افغان طالبان کو ڈیزل سپلائی کر رہے تھے تو کیا اس وقت بھی وہ دہشت گرد تھے ؟؟؟
 مولانا شیرانی پرائمری پاس ہیں۔ وہ پاکستان کی سب سے سیکولر سیاسی شخصیت باچا خان کے بہت قریب رہے ہیں۔ لیکن اس وقت وہ " اسلامی نظریاتی کونسل " کے چیرمین ہیں۔ جسکا کام غیر اسلامی قوانین کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس عہدے پر ان کی تقرری آصف زرداری صاحب کی فرمائش پر کی گئی تھی۔ 
 یاد رہے کہ بطور چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا پرکشش تنخواہ اور بھاری بھرکم مراعات لے رہے ہیں۔ 
 بطور چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ان ساری مراعات اور پروٹوکولز سے مستفید ہونے کے باوجود مولانا کی پاکستان کے حوالے سے رائے حیران کن ہے جب اس نے سلیم صافی کے پروگرام "جرگہ" میں پاکستان کو درلااسلام قرار دینے سے یکسر انکار کر دیا تھا۔ 
 بطور چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا شیرانی کی مشہور ترین سرگرمی تب سامنے آئی جب انکی مولانا طاہر اشرفی کے ساتھ ہاتھا پائی ہوگئی۔ وجہ یہ تھی کہ مولانا شیرانی احمدیوں کو کافر قرار دینے والے قانون پر دوبارہ بحث کرنا چاہتے تھے جبکہ مولانا طاہر اشرفی کا موقف تھا کہ ایک طے شدہ قانون کو دوبارہ زیر بحث لاکر آپ اسکو کیوں متنازعہ بنانا چاہتے ہیں ؟؟
 اس لڑائی میں مبینہ طور پر مولانا شیرانی صاحب نے جو زبان استعمال کی اس پر ایک رکن کاؤنسل نے کہا کہ " شکر ہے یہاں کوئی خاتون رکن موجود نہیں ہیں " ۔۔۔
 اس کے علاوہ مولانا شیرانی صاحب غیر مسلموں سے جذیہ لینے کے حوالے سے بھی قانون سازی کے حق میں ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خود مسلمانوں سے زکواۃ وصول کرنے کے لیے ابھی تک کوئی مضبوط نظام مرتب نہیں کیا جا سکا جبکہ زکواۃ فرض ہے غیر مسلموں سے جزیہ لینا حکمت کے خلاف ہے اور ریاست میں بغاوت پیدا کرسکتا ہے۔ 
 مولانا شیرانی منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اپنے حلقے میں وہ اپنی اقرباء پروری کے لیے مشہور ہیں اور انکو اس حوالے سے مختلف القابات سے نوازا جاتا ہے۔ 
2013ء میں ژوب ڈیوژن میں نائب تحصیل دار کی پوسٹ آئی۔ اس کے لیے 133 کینڈیٹس نے کوالیفائی کیا۔ اس میں کوئی پچیدگی ہوئی معاملہ عدالت گیا۔ شیرانی کی فرمائش پر کوالفیائی کرنے والے لڑکوں نے اپنا کیس واپس لے لیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس پوسٹ کے لیے شیرانی کے اپنے بیٹے کا تقرر ہو چکا ہے۔ 
اسلامی نطریاتی کاؤنسل میں پروٹوکول اور ٹرانفسر آفیسر کی پوسٹس آئیں۔ 199 اکتوبر کو ٹسٹ ہوئے۔ بہت سے قابل لڑکوں نے بہت اچھے ٹسٹ دئیے۔ لیکن اس پوسٹ پر بھی حیران کن طور پر تقرر شیرانی کے بھتیجے کا ہی ہوا۔ 
آخری دور کے علماء کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں 144 سو سال قبل ہی خبردار کر دیا تھا۔ آخری دور شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہم اللہ سے مولانا شیرانی جیسے علماء کے فتنے سے پناہ طلب کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اللہ پر کامل بھروسہ ہے کہ وہ ہمیں زمین میں ہی ان کی رسوائی کا نظارہ کروائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ !

0 Comments

You May Also Like These